29 نومبر 2011 - 20:30

برطانیہ کے مشہور لکھاری نے برطانیہ کی طرف سے ایران کے خلاف حالیہ پابندیوں کو تاریخ میں برطانیہ کے معاندانہ اقدامات کا ایک چھوٹا سا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی پوری تاریخ ایران کے خلاف دشمنی پر اقدامات سے بھری پڑی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے مشہور تجزیہ نگار"رابرٹ فسک" (Robert Fisk) نے آج انڈیپنڈنٹ میں چھپنے والے مضمون میں لکھا ہے کہ برطانیہ کی تاریخ ایران کے خلاف جارحانہ اور معاندانہ اقدامات سے بھری پڑی ہے اور برطانیہ نے جو حالیہ پابندیاں ایران پر مسلط کی ہیں، وہ ایرانی قوم کے خلاف برطانیہ کے معاندانہ اقدامات کی تاریخ کا ایک چھوٹا سے حصہ ہیں اور یہی مسئلہ برطانیہ سے ایرانیوں کی نفرت کا سبب بنا ہوا ہے۔ رابرٹ فسک نے لکھا: ٭ عجیب بات تو یہ ہے کہ ایرانی برطانیہ اور ایران کے سفارتی تعلقات کی تاریخ سے، انگریزوں سے کہیں زیادہ واقف ہیں۔٭ دوسری جنگ عظیم میں جب رضا شاہ نے ہٹلر کی طرف رجحان ظاہر کیا تو برطانیہ نے سابق سوویت روس کی تعاون سے ایران پر حملہ کیا۔٭ برطانیہ نے 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے امریکہ کی مدد کی اور یہ منتخب جمہوری حکومت کا تختہ اس وقت الٹ دیا گیا جب ایران نے اپنی تیل کی صنعت کو قومیایا تھا۔

٭ یہ تاریخی واقعات افسانہ یا داستان نہیں ہے بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔٭ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے کی تسخیر کے بعد اس سفارتخانے سے برآمد ہونے والی دستاویزات کے مطابق امام خمینی (رح) کی قیادت میں ابھرنے والے جدید ایرانی سیاسی نظام کے خاتمے کے لئے امریکہ ہی سازشیں نہیں کررہا تھا بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں اس سلسلے میں باہمی تعاون سے اس حکومت کو ختم کرنا چاہتی تھیں۔٭ بہر حال ایرانیوں نے کل ہمیں باہر پھینک کر چھوڑ دیا اور ہمارے سفارتخانے میں بڑی مقدار میں دستاویزات کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ میں ذاتی طور پر ان دستاویزات کے افشاء کا انتظار نہيں کرسکتا لیکن حقیقت یہ ہے یہ دستاویزات بہت جلد فاش ہوجائیں گی۔ .........

/110

ایرانی طلبہ برطانیہ سے نفرت کا اعلانیہ اور عملی اظہار کے لئے ملاحظہ فرمائیں:

تہران: طلبہ برطانوی سفارتخانے میں داخل؛ پرچم اتار دیا گیا/ سفارتخانےمیں نمازشکرانہ اور زیارت عاشورا/ با تصویر